ہسے

71

ہے یک یں لو

ہہ ہے 7

۹ زر (

٦۹ٌْ٭۹ٌ‏ ۶۷۹۷۷۹ 0۶ھ“ ۹۹۷۸۶۶۶۰

7 818 " 1 / 7 ۷ ۲ 1442 553۷۸۷۷۷۰۵۱ /۹۲1303۲ پل:41 غارہ:07 2021ء

رہضانءخوال 1442ھ ۱ سسے ۱ ف۰ رونظرل ورپ می اسسلاموفو ہیا کی بش اہر (ادار ہے ) رودووںز (03 | وت چا تج و

شجیب| جم دی فقّهوفتاویٰ الات کے جاات ڈاکصسہیب سن (لنرن) 0 | زیرنگرانو ۱

رعبد البادی ال ری املا مکامعائرتی نظام اسلا مکا خاندا ٰ نظام حزیظ الین نشی عری 13 '. مجلر اصارت

ڈاکیٹرصسجی جن عہادات او رمضما نکوردنا وائیسش کے ساب ٹش حم عبدالہادئی المری ۸

ڈاکٹ شھر بپ ہاو الد گن

عبدالرب شاک صمیث وعل وم الصمیت '.. عمدةالأحکام و کتاب الطھارق:طہارت د ایز یک یکتاب(قط )4‏ ض رخ پوسرنردے آ21

۲ ۱ ۰

عافد الا درا لعاف منت ےر سن ضر ررے 27

شف الین شا ہن وو + فاربی ذکاء ال رجیم ( امام وتلیب گر رین من سجچدر ہہ

کا ءال ریم - ہیر دہواع رسول ایند من کا ہننا سرانا اور ھا فرمانا ( قیا 44) ڈاکنٹعبد ال رب جا تب ڈڈل /2 ۱ مو سر

شمرعبد لکری خا اب ہیر وہیاحت بر ضر ای ور تین یر ارس (4(7) حاف پر الا ورالیٰ 31 | ایٹس

شاب خغانع ساس یپ جارّاال حر ہش ڈاکٹرپہا الد بین /

حا ذنا رگم

ار مکی 1 اال روش برطاد :۸۸001655 68500110610166 60۲٥‏ ۱ ۹8۱16۸۳۰۶۰۷

07ج 10د ۳۶۱0/2 20/12201

81 6 ٠01211169 2۰۱۶2۱۸ ۸[(00 1 ۶٥٢

لیے اوارن ا نوع ارگ را نے ےق نا ضر و رگنل ) 06 76 01ے

21:4۱۱ ۱10/21۲ 20| ٠ ۵4

۸۷۷۷۷۷۱۱۱[ 91.0. 0 ۲

اس وقت عالھی میڈیا یہ انسای جو قک پاالی ے عانے سے شہ سرخوں میں جلہ پانے والے مالک میں جین صرفبرست سے تس نے مفای ملمانوں کا جوینا 7 ا مک رکھا ےء ج بکلہ د ریگھا جاۓ و انسا می توق خصوص] مسلمانوں کے بنیادی و کی پاالی کے معلق سے تو یشناک صور تال ین یا برماکک محدود یں بللہ لورپ میں آباد مان کچھ یکم ویش اس موفو ای شحل میں اس ھی صور تال سے دوچار یں-

گر بھاا ہو عالی میڈیاکی دوری پالٹی کیاء کہ وہ ورپ کے ہو انے سے یل نے وانے واقعا کو چنراں ابھیت گیل دا یا عرااڑسی خرو ںکو نظر اندا زکر دا جاجاٰے۔ فراٹس ہہ یکو یییےء موجودہ علومت نے منقابی مسلمانوں کے خلاف ایک مم شرو غعکر ری ے۔ مسلمانو ںکو اع کے بیادی توانٹین تتعارف کے جارے ہیں-

آے ون کومتی اعھی عہدبیداران کے نسل برستی پر فی بیانات عوام الناس بیس مسلمانوں کے غلاف نفرت اورن وعد او کو ہو ادرے رے ہیں۔ یادر ےکہ فراٹس وو یک سے ج سکوبہ زم سے کہ ایا پی مخخوقی کے خحزظاء تپوریی اق"رار کے اترام اور قانو نکی پالادتت یکو می شحل دنین بیس ا ںکو تقائد اشہ حیشیت عاصل ے۔ دوس ری جانب ھی لک اظہار رات ےکی آلزاد کی آڑ نشیس اس لائی نی د یں اڈاکر اع مم گروہی ں کو لغویت جاہار اے۔

معاملہ تصرف بیانات تک ہیں کا تل اققدامات اس کے نموم رت ار زین

چنان ہگزشت چند ما سلکئی ایک جلے اور ببانوں سے مساجد اور اسسلا ہی اسکول کو نا نے لکاۓ جا کے مسارانوں تحصوص] ماج رکھیٹیوں کے ارکانع کو م زعومہ چھہوری اند از یر بیٹی اس مضشور کے مطا بی بائداوزر اش گے ظا مکو تنشکبیل دنن پر مور کیا جار ہے مج سکی متنعدد شقیں صراصر اسلائی نات کے خااف جن آور انح سے اکا کے اون نی اور اما بپندی پر تو لکیاجارپاے۔

ىہ وہ نشور ے جس میں صلی اور ہبی اقیاز بر تے ہوۓ صرف م“سلم کیب یکو نثانہ بنا گیا سے خلا اس منشو ری رو سے مسلمان دالمد ین ان ہو یکو ہوم ا ھکمیشن دینے سے محر مک دیے عائیں گے مج قانون ماں با پکوچند کیک شر ائ کی تل پر اپنے پا ںکو اسکول سے با ۓگح یر تعلیم دی ےکا انار دیناے ملمان خاتون صنکفی بفیاد پر اپے لیے لیٹڑی ڈاکٹ رکا انقاب می ںکر گی تزکیء بوسنم انی وو ا ار تلق رک دائے خلا مسر بی اماممت وخطاب تکا فرپیضہ امام یں ری سا ان تال ےکر ال یں مز 0 ا"ئم مساچ دکو ملک بدر کے جانے والو ں کی لٹ پر رکھا جا چا ے۔ پیلک مقامات مل 18 سال س ےکم عم رلڑکیوں پر اسکار فکا ہنزا نوع ء و ںکو اسکول تھوڑنے اور اسکول سے لین والی ون لے تعن ضا رکی خرض سے اسکو ليکی عمارت یں دا شل ہونے والی مائوں پر اسکار فکا انتا نوع ء پر سی اور حصببیت پر بی ان یے توافی نکی ای کی للٹ ے۔ مجن کے ذد یج ین کی بی فی و مر ری اد ار کے نام پر

کے ےا

بے دبا بے راہ روگی اور لاد غیت کے جر انی مکی افزرائئشی متصودرے۔بہ صورت حال صرف فراٹں کی حدکک محدود نیہ بللہ اسلا مو فو کی زہ نی ورپ ک ےکئی اود مال کک و بھی اق لبیٹ یں لے ھی سے۔ چنا نیہ ایک ماہ نل سوتزر لی کی عکومت کی جاب سے عوائی ریٹرنڈم کے بعد برتعہ اور نقاب پر پا ند کی لگادئیگئی۔

برتعہ اور ناب کے خلاف گوائی ر یفنم کے اع سے ظاہ رہ و ما ےکہ سوتزر لین میں مسلرانوں کے خلاف ف اک وکس قدر سو مکیاجاچھاے۔ بت وا ی ضاخژن کی حجاب سے 880 8028 گی تح یک چلاٹ یگئی اور کو مت نے ان کے دپاؤ یل آ رک ین ناپ پھ بابندک لگا دی اور تقانو نکی خلاف ورزیی پر 150 ڈالر ج مان ےکا تھی اعلا نکر دیا۔

چتھدماہ ٹل بونان می عیسائی طبقہ کے ایی تین ذمہ دار رر پشپ نے اسلا مکو آساٹی دن سے سے انا کر دیااور ‏ علا ا سلا مگو الیک سای تح یک قرار دتے ہوۓے ا سکواتۓ والو ںکو جک قو مکہہ دیا ا کا ہنا ےکلہ اسسلام اور مسلمائول ے انساثیت کے من می ںکی بھی فان ےکی فوع نی کی جا گتی۔ بی رح نے دن جمرمنیء سویژنء ڈغمارک میں مسا حد پر ار ار کے مملوں مل اضافہ معمو لک یکاررداٹی بشاجاراے-

اخرض ورپ میں ملمانوں کے غلاف اسلا مو فیا کا بڑہتتا ہو اسیلاب قرون د اکر یادوں کو نازہک رد ہپاے۔ جب اورپ کمادوت

ا ا و سر۳

زبان زد خاش وعام نے اور نی ہون کا مطلب یہ ےک تم مسلمان میں ہو“ افسوسناک ام بہ ‏ ےکہ اور پکی مس لم قیادت ان تام ری ان کا ج ادرا ککرنے سے اھ یمک ار ظط ات رپ من لارے ہیں۔ گر ای مسسلم قیایت ہپھق ےک لورپ میس اسلام آزادےء علامہ اقال ن ےکی وقت جن دکی مثال دنن ہو ت ۓےکہاتھاکہ

ماک جھ سے یز میں حر ےک اجازت نے نات کی 2 ہے 0دا آرج یہ شع ر چم پر ری ط رج صاد قآرہاے۔

یہ اھر تھی محوظط مار ر ےکلہ اس وقت مسلمان اور مساجد ورپ کا جمزء انتک مین جیے ہیں یجن مساجبد حر ہی ںگی اور مسلران بھی گر نجس ر ور سے بورپ میں ملمانو ںکی نی نل کے اسلام سے الپ رق نزو در کک یک لین ما رج ہیںء تین کن ےکہ مماجد رہی ںگی گر ویر النء مساران بھی رہیں گے گر الام سے ژالاں ء ان پہ ار جن ال رل اسلا مکو تھوپ دیاجات ےگا

اہن اکیاىہ دانش مندی تی سک نے وانے نو ں کا سدہا بک نے کے سے ابھی منصوبہ ہنی یکر لی جے۔ برا ریش ضرف تضحن ای مین سن یی بللہ ان کے پیش نظ بیشہ ایک مو سی ی پیل ہی ہد ے۔

2-0

7

نر اسلام

سے زندہ فقط وعد مت اوکار سے مت وحرت ہو فزا ٹس سے وو المام تھی ا اد 9“ - 0/۰۰ آئی میں پیج کام یہاں عفل خر اداد ےم رت تک نت یی نعل ات جرف ان ۷ جاو بر جس کا توف ہو وو اسلام کر ایچاد اکو جھ سے ہز میں حر ےک اجازت آداوے گگا ے۶ اما ے: آزادا

دب کت بے“

سا یں وی

سس ساف صا شی نکی اہمیت

”وی تعلیرات ذرخرت ال زین مج کے لج مث را اور ام مصادر یکن ہیں۔ خرن مجیدر سقت اور سرچ سلف صاشین۔ پل لوگ و 0" ٰ۹ صاشٴین کے کی سے اع را کرت ہیں یا اا ںکی ابھیت کو نظر انداز کرت ہیں٠‏ عالانلکہ ححابہ کرام وا اور جا٭نین کے زان کو وو رسول الد حم و رج قرار دیاےء مج کی ایممان وخقیرہ میں جنگ ی, دیتی علوم میں مہارت و جذبہ اور دزن پر خابت ند ی اق ال آ1 آپ ےب ا ہکرام ٹا راە,راہسٹ ضیح تک شاگر اور شی افیگان تے ان کے سرا نے ت فان ید نازل ہور اہن یکرمم پل خور نف سلفیں ش گی اجکام ان کے سام بیاان خرمارسے تے۔ ان گرائی قندر پمجوں سے زیادہ دٹی امام وممانئل اور بپیں منظر دوسرے میس مج سکتے ہیںء ۳ مہ" یچ ساف صا شی نکو خصصوصی حیشیت حاصل سے رنہ اتی ہ گی جیے ماضی میں ملف فرتے اور گردوجاد؟ جن سے دور ہوے اور صر اط یم سے نیک گے اور آج کبھی ا سک مشابد ہکیا جا سا سے کہ دین لبھی اور روشن خیالی کے نام پ رحس طرح بے دہی گیل درہی سے اور ش گی اکام ومسائل لوگ اپنے ذہنی سا جج کے مطالقی ڈھا ل ےکی ری یں

وزارت ری معز سح دی حر بل لن ناشن کے سربراہ الین ال دکنذر مہ ام الشفی علق نے ایل مکی ایک مشست سے کیچ ل فک ابعیت پر مو خطا بگیا۔ افاد٤ٗ‏ عا مکی نے یک

سے۔

زوچمسرر سم سس کم ناو اجب ے ء بٹھ دلا نل درخ ذ یل میں :

می ول :ار شاد باری تھاٹی ہے: وَالسَابِفَونَ الأوََونَ مِنَ الْممَاجرِينَ وَالْأَصَار وَالِبنَ اتَبَمُوهُم بِاِحْسَانِ رَضِيَ الله كَنْهمْ وَرَضوا عَنه ک4(- را 2ب:0٥10)‏

”عماج اور انصار جنہوں نے اسلام قو لکمرنے یں مال او رون فک اؤ رخ ا ناخ کے مات ان گیا پروی یکر نے دالے ہیں ء الد تاہی ان سب سے راشی ہو ااور ووسب ال ے راضی ہو |ہے_“ امام ای یکر نے فرما اک آی تکا آخ ری حصہ اغلاصصس کے ساتجھ یپروی یکر ے والوں ے مر اووہ لوگ ہیں جھ ان کے نفش قدم پر لے ہیںء ان کے اوصاف می ہکو اپناتے یں اور ہر دم خقیہہ اور بر ملا ا یکی طرف دعوت رت ہیں۔ علا مہ سعلد کی بپڑ نے فرمایا: اس کا مطلب ا نکی پروی عنقا دہ اقوالل اور اقخمال یی شس کر یہ وگ ء اور ای بی لوک پر اکی سے موا رہیں کے اور ان تی کے ےت قرف وا کی حرف ے رین نوازش ہوگی۔ لام تخ ٹین یچ نے مشور یر وگرام انور علی الد رب“ میں رمایاء اتباغ با لا مان کا ا زی تقاضا ےکہ ا نکی بر وٹ یکرنے میں می شض مک ی کیا یا زیادفی نہ ہونے پا اور ید فرمایاہ ہمارے لجیے ضروری ےک ہ عبر نیدی ضڑم میں جج اہ کم ام ات کا رز شل تھا اور آپ تم کے بعد ناک ری رپ متتوں کاخ رت ضح ال نکی رف چم ر جو جک یا دنہ ا نکادور سب سے کے رآ برق ہمارے لیے ور ہت تی ںکہ دبٹی امور مم لکوکی ابی بات ماکام شروں

کرس جھ اس عبد مہارک میں نکی تھاورنہ پہ اعت ے جھ الد عمزو بل سے دو رک یکا سبب مین جات گیا دین یش تن ۓےکام سے ال کی پناہ کی کہ ہربدع تمگمر اہی ہے۔ عم کے وا ہو جانے کے تد سوا ۓےگم ابی کے اور ٹہ یں_

ہد تو سے ےرت ےک تق کرت ہو نے فرمایاکہ اخلاعص کے سماتھھ ان - رو یکرنے والوں سے مرادہر وہ شف ےچ اس صفت ے مضّصف ہو گم قیامت مک اپ امت کے تحام افراد کے لیے ضمروریی ‏ ےک ہاج اور انصار تصسحابہ کے نب پر جئیں۔ امام میک نے ارشاد فرما کہ اس ات کے آخر میں اے والوں کے لیے بھی وہی بات اور راستتہ در ست ہو گا جو ھکاوں کے سام تھا میق اکیھوں کے مہات یکا جو مل ھادجی بعد یس نے الوں کے لیے بھی ہوگا۔ جو تخس چاپتا ےک ہ امت کا تع اپنے در خناں شی ے منقتع ہوہ وو سلف صاین کے راس کو چھوڑ رے, فقین جان ےس ایا تنس مت مسلرہ تو ور تصان بانیانے کے درپے سے بلکمہ درین اعلام شش تتبد ہی چا!تاہےء ا سک یکو شش ےہ بر ات اور تر الات و ردان چُُھاے۔ ان کوخشوں کو مستزدکر دینا اہی ء انل کیا ں کی کرت ہو ۓ اس شر اگیڑزی سے دوممرو یکو من رن ہو گا ک کہ سلف صاشین کے سج اور طرز ش لکو ابنانا اور رو یکر ناضروری ےء یہ دراصل حم ران سے اور بی سنت رسول ملف بھی سے۔ آیت ممکورہ میں ب کلت ہابت ابمیت رکھنا ےکلہ اد تحالی نے ابیقی رضامند یکو مرو اکر دیا ےکلہ افش نکی فلاخ کے سان پچ ر دک ی کی جاائ ےہ سی .- ات وڈ اب رکھا سے اور ابی صن عم ل کا

ہین ب لہ رکھا ے۔ ا کا لاز ھی مطلب بی سے کہ جو اخلاضصس کے ساتھ ان لو ں کی یریلہ ٠ری‏ یس کے لے ڑا اور رضاۓ ای مھروئی ہوگی۔

2 دوس ری د یل :الع زو جح ل کا فرمان ے: ٦۰‏ ۶ -9ص ٴ تمہ اگر وہ تم جیا ایمان لاٗیں نے ہدایت پائیں گے۔“(سور8القر::137)

ام ای نکش رھگ نے اس آبی تکی تفر میں فرمایا:اگر وہ لوگ ابمان لایس مت کغارء ای لکناب ویر و ٹس رح ا مو منوخم ابمان لاۓ ہوء الد گی ناز لکردہ تھا مکتابوں پرءرسولوں پر اور ان یں تف لق کرس نوہ ہر ایت یافتۃ ہوں گے اور گت نکوپایں گے“

علامے سج ری :5ل نے فرمایا: ‏ اے ابمائن دالو اتی بایان نے آے قھام رسولوں پر کیو پ اور ان سب میں اعلی اور انضل مم مم اور ٹر آن یرے۔ ال کی سی پر ا نکیا ا یمان ے اور دہ الد تما کی سے کی ہوۓ رسولوں میں رق مس کرت و ای بی لوگ صر اط ٹیم پ گان ہیں ھی وہ راسننہ سے جو جہنت اور ان کی میں ئن رف نے جات یی س راد مع پل ارہ ہدابیت پافت: یں ہو کت“

مل اش الین و ایی نے رکورہ آع تد ور میں کا تر رر ۱ اکم حایظر کے راستہ کے غلاف ہو وہہ ای٤ے۔‏ ا تال ےکی کے ہدرایت باقن ہوئے کے لے از مک رکھا ےکلہ ان ئمکودہ باتوں پر اسی طرح اسے ایمائن لانا ہو گا بے ر سول الد نَم اور آپ کے اصجاب نے ایمالن لائۓے۔

ا سکا مغ بوم خخالف پہ ہو گ کہ جو ر سول اد حم اور آپ کے صابہ جیما ابیمالن نہ لاۓ وہ ضلاالت اور ابی ٹیل ہہ وگا_

کے ذفرماان ابی ے:

ُن ماق ے0 مِن مات“ بن له تیر کت سیبلِ الین ہوا

ٌَ وش جَھَنم: 5 وکائث بیدء

۱ (سورڈالنماء:115) تر رت تحت کے پاوچھ در سول کے خلا فکرے اور مو منو ںکی راہ یھو ڑکر لے ہم اسے اسی طرف موڑ دیں گے رط ور جور موجہ ہوا اور اے دوڑںٌ ڈال دی کے ج کہ ببہت بی بر اشرکانرے۔“ علامہ ابن ال حام نے ایق تفر می کہا ے کہ ننسیدناعمرمن عبد الع زی فرمایاکرتے ت ےککہ رسول الد سا سے جو سنت ثابت سے اور آپ ڑم کے بعد ذمہ داروں نے جو ظر اٹہ ا خقیا رکیا ان قمو لکنا ہگویا ال دک یکنا بکی تح ربقء الل دی اطاعت اور دین یس ہنی کا سبب ے ےب تس کے لیے سزاوا رخ کہ اس می ںکوئی ت میم اور ردوبد لکرے جو بھی اس راہ ہدابیت پر مل کرے وہی ہدایت پافند سے جو اس پر خابت ندم رے وا یکا میاب ہہ و گا اور جھ اس راستن کی خالشت کر کے خی رمسلمو ںکاراستہ اختیا رککرے و اللہ تعالیٰ بھی سے اسی کے اخختیا رکردہ راستنہ کی طرف موڑدرے گا اور اسے جم میں داٌ لکرے گاج کہ ہاثاقت۔“ علامہ سعدکی نے فرمایا:ج کوک رسول الد خاف کی ماش تکرے اور اس کے خلاف عاد اخیا رکمرے تعن سے دامح ہو جائے کے ہت رآ ران رورض موی ےت رگ رخ مسلو ں کی اتباع اختا رکرےء یی ا ن کا طررڑ ایناۓ اس عتقا ند بیس یا اعمال میس فو ہم اسے ای عال پر بچھوڑدیں کے جو خو دا نے اختیا رکیاے۔ یی یی تی ےک کے یی نے ٹکو جانۓ اور یکن کے بعد اسے کچھوڑ دیاء پٹ ا بی عرل ال یکانقاض ےک اسے ا سک اغخقیا کر دہ

گم رای یی رئے دیاجائے۔

علامہ ام عبد ازج بن باز یل نے فرمایاک جھ حا کی ال تکرے اور ان کے قش قدم پرنہ ما لے اور نہ بی اخخااضی کے ساتھ ان کی بر دی کرےےء ا سکاشا رکا میاب لوگوں میں خی ہہ و گا بعد یں نے والوں کے لیے درست کی سککہ گے علما مکی مخالپف تک میں۔ ابا رف سے وین شبھی کے بین جزیادی اعمولوں بی سے ایک اجماغ ے ج سکی حخالفت جائز علیہ خرن وسنت اور اما جب علا ای متلہ یل اما خابت ہو جا پھر وی 08-70 منصورہ کہا ۓ گا کت ایا گروہ جو رت ال یکا معن او رکا میا یکا حقہ ار سےء جس کی رسول اللہ سا نے خر دگی ےک مہ ایک اعت ہرد اددبردقت ق ار ےگا علامہ جن ناصر الد من الباپی جک سے نے ویش ان یش فرما اک ہآیت نمکوروٹیں سب سے پھلے رعول الل سن کے اصححاب داشل ہیں الن ت یکا راستنر م نین کا راسننہ کہلامتا ےہ لیفر ا مسلمانوں کے لیے عوبی طور پر اور داعیاان وین کے لیے خصصوصی طوریر یہ درست کی لک دہ ت رن وسنت حم غیم ما لکرنے کے لے آ ج کل جو تنراول طریقہ اور وسائل ہیں جیسے ع ری زبان :8 'ہارت نا وضو کی معرفت دخیبرہ وغیبرہہ ای پر اکقتامکربییہ بللہ سب سے پیلہ ہم عحاب ہکو دیکھنا ےکلہ اغہوں نے فاں مل کو کیے مچھاء اس ےکلہ الع کے متا اور ا نکی یرت سے یہ بات واس بہو قی ےک وہ ال دکی اوت لین حتاف وو رق نع سن تک تاد تن رن سے ور ائییی می مود غر: ضفات اور ایل اخلاق ے و تصف تے_

میس کنا ہو یکلہ اس دور میں شس کا حوالہ آبیت کور ہیں ےء معن صرفر سول ارد حم اور آپ کے ساب کی تے۔

4 چو شی دلیل: فان نیدی مم ےکم سرن ران بین مین ٹف روای تکرتے ہی کیہ میں نے ر سول اش خَاففظ کو فرماتے ہو ۓ سناکی مہ رین

اھ

گا 2021

زماند دہ می ازماشرےء پچ ر جو اس کے مل ور پور بس سے متتمل بعد( بفاری ری سم الاسلام امام ان تبیہ نے انس کٹ رن زمان دک وضاحت کرتے ہوۓ ماما کہ اکابر اہ کم ام وا گی اکریت ج ق رگن میرک اہر , خلفاء ار بعر کے دور کے ساتھ بی ہہ اع تن دور تخم ہواہ ت کہ ان کے بعد بررکی صحاہ ہک اکشریت تم ہو بی شیء پھر اصاخ صحابہ اور اکا بر تام نکا زمانہ ماج سینا بد الد بجع ز بر اور پر الیک کے دور میں تھے پھر ماظجی نکی نے اہو دور علومت کے اواخر اور عماسی دور عحکمت کے آنماز ۰ شی( فا وی این جج :357/10)

علامہ بر پہارگی نے شرب السنہ میں ذک رکیا ےکلہ اعت سے مراد صا کر ام تاپ ڈییںء ان بی یر کچ معنوں میں اڑل سنت والمما کا اطلاق ہوگا۔ جھ ان کے راستہ پر تقائم نہ ر سے اور الع سے و جنماٹی اکا ےنا اہ اور بد ضف ہو گا اور بات شمدد ےک ہر بد عحت فلاات سے اور الات کاٹ رکانہ جم میس ہہ وگا۔

ین الا سلام ایام این تھی بے نے ماخ اسنہ میں فیا): تن جن طر حکوںی زمافر در حا اد مل اور چھربور غیں سے امیر صحابہ کے بعد پٹ رعہدر عد مین ےکپ رج ھی حد یثء سنت اور حا کی رو یکر ےگا وہ ہن ر ھا جائۓ گاء ر ق ور اول سی رے خز 27 رایت باقء الد کی ری مضبوظھی سے پلڑے ہوے اور فرقہ واریت اخاافات اور ٹٹوں ے دور تے اور پچھ رجو ھی اس مہ رین دور سے تنا دور ہوم اگمیا وہ رحمت سے دور اور خچتوںل سے شریب ہو اگیا۔

و و۴ رسول الللد مل کاب مکورہ خرمان امم کون خیب دبا ےکم دہ اس دو ری روش اپنائیں جک مب رین دور شر ہو جا سے۔(منہاج الت :6 /368)

پا نچوی دییل: سیدنا عرباض ڈلاٹ سے ممروی ےکلہ ایک دن رسول الد ٣‏ ماز پڑھ اکر

ہماری طرف موجہ ہویۓ اور ہیں لحیحت فرماکی وھ السی م وش تحت معھ یکس جار ی ہہک یں و کہاکہ اے اللر کے رسول خلفظ موس ہوسا سے کر یکر ےل تجرے۔ آپ می ںکیا عم دتت ہیں ء آپ اف نے ارشاد فرمایاکہ میس “ہیں الل کا تتوکٰ اختیا رکھرن ےکی رح ت کرجا ہوں او رکپتا ہو ں کہ بح وطاعم تکا حجذ یہ اپنے اندر پید اکر دہ چاے اک مم حی فلا مکی کی بات بل ءکی کہ میرے بعد تم یل سے جو زندہ رے گا دہ بہت سے انختلافات د کے گاء لیر اتم عیری سز کو مفبوظی سے پلڑے رہو اور غلفاء راشدری نکی سن تکو اپنا قوت کے سا تھ اسے خقمام واور خرداردین میں ٹی بانجیں شر و نکر ناک کہ ہر کی بات باعت ے اور پر عت ط(اللت ے_ ( سن الوداکَدہ تمعن این ماج ء منر7۱ھ)

علامہ ابع ر جب ب6 نے جاشح العلوم وا نک مکی سے کی یس ا نر از ضٹ یش مارے لیے عم دیا گیا ےکہ تخرقہ اور اختلافات کے دور میں ہم سنت نیدی ضڑم اور خلغاء راشر ین کی سنت رت ےت کے راد وو راس جس پر ملنےکا عم کیا ءپز اعریث فور میں حم ےکہ جم می سا اور آپ کے بعد غاغاء راشرین کے ط ربق ہ کو اپنائیں عتقائرء اعمال اور اقو ال ٹیل ای سے سن تک یکائل اتباح ہو گیاء انس لیے لد زمانہ میس اسلاف جب سن کت وہہ سمادی زس اس میں شال ہو ہیں اور بی مفہوم “شور علام امام تس نء ایام اوڑاگی اور ایام ضیل بن عیاض وٹ سے مرو اٰے۔

حدیث کے الفاظط ٹیس ایک ور طلب صلھ یکن ہر بھی ےکسہ سنت نوىی اور سنت لفاء راشر بن کے بعد ىہ فی سکرام یاکہ دونو ںکی سطنو ںکو اپتا بللہ داع رکیاصیضہ اعنتعا لیک یاگ کیہ اس سن تک اپنا ءگو یا +0“

ھی دلیل: رسول ادخ کا ارشاد ےکلہ بیبودی اکٹ رف رخوں میں اور نصاریی ابر فرخوں میں ہف گئ اور می رکی امت مہف رقوں میں یٹ جائئۓے 0-97 جم میں ہوں گےء آپ کے ے ور یافن تک اگمیاء وہ جات پاے والا رو کونسا ہو گا ؟ آپ خظ نے فرمایاء ”امام دوس ری ایک ردایت میں سے وہ نس پر میں آوز تیرہے صسحا ہکا رن یں۔

علامہ ای عبد ایز بن باز بای نے فرمایا: جات پانے وا ل گر وہ سے مرادوہ جماعت ے چورسول لر ۴ اور صا ہکرام ڑا ا کے راستہ یر ہو 7 جو نود ال یکا اقرا رکرنے وانے الد کے میم پر 54 وا لے اور 4 کیل جے رے وانے۔ ای راستہ پر اپنے ور رہ کے ذدیعہ ثابت قدم رن والے بی تق پر یں اور راہ تی کے داگی ہیں چا وہ می بھی علاقہ ائلک میں آ ابادوں۔

ق ران وسشت پر عصل نک سلف صاشین کے مطابی ضرور ٤6ے‏

مشبور صھالپی سینا عحبد الڈ بن مسمود بل گے ف مایا جھ سکس یکی پر وت یکنا چاے وہ ا نگ پر گی کرے جو اپقی ز مدکی بوری کر کے وفات پا گے یں کیوکلہ جو زندہہیںء ورکسی بھی وت فتتوں می با ہوسکیے ہیں اور انس راہ می کا ماب تر ن٣‏ روہ تھا کرام کیا روہ سے جج کہ اس امت کا ففل ترین ےت ںا ےر ےت سے ععلم ہیں گہراکی تھی اود جھ ”علفات ے رور ے۔_

امام اوزاگی جه نے فرمابا: سض تکو مضبوٹھی سے نے زرکھوہ وڈ یکپ جو شخابت مہو اور ان بانژں ہے وہ جن سے اسلاف جچتے رے سلف صاٗین کے راست پر چو تمہہارے لیے بھی وپی راستنہ کبرسے جو ائنع کے لیے کرت رتھا۔

.ھ2

گی 2021

اور ید فرمایا: تم سلف کے نفش قدم پر یلوہ جاے لوک خخالفت ہیک مہ چک نار ہنا لوگو ںی ذاٹی آراہ سے چیا کت بیغ سازگیاسے ہام تک رمیی۔ امام ات بن میل ن ےکہاکہ صحاب کر ام کے راست ہکو ابنانا اور ا گیا چبردگ کر ناہمارے ن زدیک اصول من ڈان ہے سے۔

امام این میم ای نے فرمایا: جس کا خلاصہ بی ےکہ ق مان بی رکی تفر میں سلف صاحین اور شور نیہ کے بر غلاف کنفگ وکرنے سے ود مانن ین کو یک لا زی ہوگی۔

اخ دااس شک ے وائی ور یر ”می بہوربی سے پا پھر سای نے لش یکی ہے لیا نکسی بھی تن ہکو اس میں کیک نھیں ہو سا کہ سلف صاشی نکو خایا 0 0 پوت کیک تا ےک انس کی حیثیت خلف سے جیسے ببتھ لوک کت ہیں٠‏ ہم بھی ر ال مڑنی انسان ہیں دہ بھی انساان تھے م یکو یا اس بر شف سکااند اڑدہے راہ پر ایت ے دور ہو چا ےء لے گ ری فان آیے۔( الضراقق الرسلد عل اطظیمیہ والمعتزلہ:2/1)

امام شاشی نے فرمایا: اکر ففرت ےگھراہ یں لے ہووت ۓکہ بظاہر وہ فرع وسنت بی ے ار لال کرت دکھائی وت ہیں لیگن سلف کے اسلو کو چو کر ءگوماکہ سلف صاشین کے ذ نین ددماغ ٹیل دہبات او رکگننہ ٠ہیں‏ آیاجھ بعد یں نے والوں کے زان یآ گی با ا کر ضورے_“ اور زی فرمایا :کہ اکش گر اہ فرقوں میں دی اگیاء جا دہ بفیادکی احکام ہہوں یا فروگی مسائل مم لہ وہ ا 2 نظریات اور ٹر سودہ خیالات بللہ بحض اق شم کے لوگ بھی ظاہ رآ ب عم خود شریعت سے می استقد لا لکھرن ےک یک وشن شکرتے ہیںء یہ نیقی ش اعت اس سے پاک ہوثی ہے٠‏ اس لیے ضروری ےکہ شش گی اکم پر خورکرتے ہوۓسلف صانین کی طرف درکھا جائۓے کہ

اننہوں نے کور مل ہکو کے مھا یا تلق آبیت ما عدیث کا مطل ب کیا ھا کی وکمہ وہ طضنی کے لا شی تاور مل میں تر ے_>

امام این نیم نے فرمایا: ند ریکھاگمیا ےکلہ بہت سے کم معلم لوگو ںکی بہ ھی ےک کی متلہ میس وہ ش رن وسنت کے بسااو فات ظاہرىی فصو کو تود یھت ہیں لیکن ا نکی نظ راس بات پر نیس جال کہ ای مملہ میں خود صاحب شریعت اور ما کرام کا مخ لکیا تھاہ جو بعد یں آے والوں ے زیادد مل ہکی حفیق کو ھت ےہ ابر اجو تھوڑا بھی غو رکھرے گا وہ ا سک یگ ا یکو مجہ کے کا اور یی مطل ب کک کچ کے گا شی ق ران وسنت کے سماتھ ساتھ صجاہ کر ا مکا تشل۔“

امام حافظ این عبد الہہادگی نے فرمایا: یہ جائ زی کیل ےک کی آیت یاسنت کاوہ موم جیا نکیا جانۓ جو عہد نبدی مایا یا عہد صحابہ میس راع نی تھا اور یشے سلف صا ین نے بیان فی سکیا کی وککہ اس مر حکرنے سے بہ متصصور ہہ وگ اککیہ ان ہز رگو ںکو ٹن کا ادراک خی ہو ااور د مگ راو ہو گئے اور اب بد مین آے ہے ختزرا لگند ہکو چ مل معلوم ہوا اور طض انہوں نے وریاف تکر لیا!! اور یٰ۰ ۹ 0 یی رائۓ کے محخالف ہو فو پپھ رم زیر طرفہ تاشہ۔“ (اصارم الم فی الر دع المبل:318)

امام ای نکشمرنے سور آل عمرا نکی آیت مب ر7 کی تی کرت ہو ے فمرماما:

(فَأَا الَدِينَ نی فُوبھخ ریغ فَتَبعُونَ مَا ماج من ابْيقَاء الْفْثنَة وَابْيقَاء تَأَرِيِہ) (سورة آل عران:7)

کہ اللک نل وکرم ‏ ےک کی ہ دع کو ق لن مجید 0 یں ملقی کی کہ ق رن مجیر آیای و یکو پاضل سے وا کرنے نے ارت نظارات ے الک نے کے سمیےء ای لیے ق رن مجید میس با بھی تار پا اختلاف ل٠‏ ب کلام ال ھ سے خ سکی

ایک بات دوسرے سے ماد نیس ہوسکقیء یہ ال یم وحمی الام ے۔

(ففی ای نتشر:144۸1) علامہ السعدگی نے فرمایاککہ ال معن یل یہ پاٹ 2 داخل ےک ہکغار اور منا فی٠‏ نکی گگرار اور احتراضات جو الد کے اجکا مک کو رکرنے اور ت7 خیالا ت کو اب ت کر نے کے لیے کیا تر تی ل ایور ضا نآ خنانس بدختیو ںکی سے جو تنا ببا ت کا سہارا لن ےکر بحٹ ال کر ہین یکو خا کر نے رک لیے ا نکی بحث ور ار اللہ تعالیٰ کے وا ح احکام ٥‏ و ا ور وا اور سھائی پر بی ہو جاے۔ من اس حفقیقت کے اوجود آ خ کل کچھ لوگ سلف صاشین کے راستہ پر نے اور ان کے تسس کو اعمیت د سے کے جیا بہ صعرہ لات ہیں کہ سوہ بھی انمان تھے جم بھی انسمان ہیں۔“ ہہ عمت ولصیرت سے خارج بات ےہ جچ سک تر دید میس لف ائل صن ےکاٹی مھ بیا نکیاہے- علامہ الجنخ مین فرماتے ہیں کہ ایل سنت واجماعت کا ہہ اصول سے کہ وہ ممائل میں مہات رن وانصار صحاہہ اور لف صاشی نکی طرف دیینے ہی کہ زیر بحٹث ممتللہ بس ا نک یکیا رائۓے ےکی لکیہ ا نکی پیر وگ یکا مطلب ان کے ساتھ حت وعقیرت کا اعترا فکرناےء نیز اس لیے جھ یک دومن اور سای سے قریب نر تھء بر خلاف ,00 کک دہ بھی انسان تے اور ہم بھی انسمان ہیں ۔کو اک ا نکوتاہ بٹوں کے ہاں حعظرات ال و جکرہ عمرء عثان اور گیا گی بات اور راۓ ای طر کی سے یی بعد بیس آنے دانے ایرے یر ےکی ىہ لاشیہ لات ے اور شلشی سے کی کہ صحا کرام مت وراستی کے قریب تھء ا ن کا قول بعد میں آنے والوں کے اثوال بر مقدم اور مع ہو گاء یس پل ان ہز رگو کا یمان اور علم خھاء اور جو بٹجے

رد ے ‏ کت فب۔“۔

کا ,یں ویر

نہیں ٹم یم اور ماہت ار یکا ملکنہ حاصل تھا اور پھر انئیں رسول اولد ڑم کی صحت اور پراہ رات ٹیل پانے کا مو لاہ وہ بعد میں نے والوں سے بد ر چا مر اوراعظلی تے_ ۱ علامہ ات صاع الغوزان نے فرماماہ جو ت٠س‏ بھی صعحا ہکر ا مکی خاش تکرےء ال نکی بے فو قی ری کرے اور بے لی ےکک دہ بھی انساان تے اور جم تھی انساان یں ء بماپنک دشبہ پہ بات ا سک ججباات اور گمرابی پر نی ہےء ہو سک ہے یا مہ بات لے والا خود جال ہوجو سو ہے بے اخی رگ دکہہ در ہاے جیکہ لہ تھی کے متعلق بی عم کے ا ھہکہناش رک کے مت رارف سے پاچ ر ایا آد ھی خودف رہ یکا شیارے جو سججتتا ےکہ اسے اتنطا عم عاصل ےک دہ سماہ را مکی بے ادلی اور تی سک رہاے۔ (قما دی الدروں الط+ے) لامہ لت الرائی لے نے فرمایاکہ جنیر و0909 قش ران وسن تکی پروی یکر رہ ےلین سلف مال نی وروی نی رح کر ایق اس رگکت سے وہ اعتراف کر رہا ےکہ وہ لوگ بھی انسان تھے اود ہم بھی اسان ہیں اور ایا اش سگمراہ اور پاضل پرے۔ مم رابہ خیال ےہ اق رن میں ایت ےکھمرا فرے اورخ ود دور شس یاۓ جانے والے ملف افیار اور نظریات کا یک اہم سب مہ ہ ےکہ دین ٹھ یکا تس رابذیادی مصد رکزاب وسشت کے بعد لف صا شی نکی طرف رجو عکرنا لیکن انہویں نے اس سے اتحرا فکیاہ اکچ ہ رگمراہ فرقہ بظاہر ق ران وسض کی طرف رجو رن کا عو ئ یکر جا گر کچ سلف کے یر _(موسوے۔العقظیرہ:22071) امام این تھی جن رماتے بی یکلہ ىہ بات آشکار ہو چیہ ےکہ جھ بھی ق رن پا دی کی تفی رکرتے ہو صسھا کرام تپ یا امتین کے بر خلا فکوٹی با تکرے کا وہ مو الد تھا ٹی کے جن میں مفتری تھا جا گا یا چھر مد اور بے دین شر ہہ گاء یا تحریف کرے والا متصور ہو گا جو اصل مفہوم

70ٔ18 ا اور می الیاد اور ز ند لق تکا راس ہے جو کہ پاش ہےہ ج بھی دی اسلام کے اکن ںۓ مر یی تا ضس الا ہے میٹ ےکآ کے کور ید فرما اہ جو ہہ تنا ےک دہف رن وسش تکا ہم جح صل کر سنا سے مفیر صحا کرام کی مرف رج ییے اور ان کے جادٴ جن سے ہہ فک الگ ابقی روش اپناتا سے ایافص بلاشرہ بش اور آ7رارتے۔ ( ضر قاوی مصرر:ص 56ء شقن رما مر الفتی) امام این مجر بت نأ نایا ال سنت واہجماعت کت ہی ںکہ ہر قول ومشل جو حا ہکم ام سے خابت نہ ہہو ال کا شمار بدعحت یل ہو اتا انام ف کیاکی ور ول ول صحابہہ اس میں بل کرت ہوۓ سیققت لے 0 5 - 0 9*۲" اج کان کا موح ملا وہ ا سکی طرف بج لکیا 7ر2 ٹہم ملف کے مطا بی عم لکرنے کے فواند اللہ اور اس کے رسول مم کے فرمان پر عص لکرنے کے مت اوف ہوگگا کی وککہ لف سان کے راست کو اپنان ےکا عم میں ق رن

وسنت بی سے تنا ےء جلی ناک د انی سے وا ہو چا ے۔

ما بی حد فاص٥ل‏ سے ایل سنت اور خ اہشات رر ضس ھ.ے گی ای سن عل فک طرف رخ و کرنۓ جرب الف الا نکی فو شف زی اضف یکر ےکک مر یہ ہے ء جیب اہ فر مان ای ہے : ”جھکوئی خلا کے ساتھ ان کے نقش قرم پر کے کا الد انح ے راشی ہ وگا_“ 0 لف صاشی نکی چب رو یکرنے میں ججننم سے

جات ے ودنہ جو الس راہ پد ابی تکوکچھوڑے

کیاء کم میس کیم تک دیاجا گاج کہ بر ارکانہ ےت

ِ٥‏ بی اتحاد واتقاق یکا مو ذریعہ ےہ غہم سلف ے ودوری فرق وا رت اور اخاا فک سب ہے جلی اک ہآیت سے وا ے۔

1 ٹنم سل کو اپنانا باعحث ہد ایت اور سبب خجات ہے ء عبی اک ہکہاگیا:

لن آمَنوا پیٹل ما آمَنثُم بِ فَقٍ

٥۔ےہ‏ ہ

اھتدوا 1 اپب ڈڈلیء عاتی عبد لاق انققا یمر گے

فا لک و ریت مار بر لان گے بھی یل ہے ڈڈلی بر لین کی ہز رگ تخصیت عاگی

راجاعپد الال چتجوصہ 83 سا لکی عم ری ان دار فالی ےکوی کر گےء اتا یر واتا الییہ راجتون! ہز رگوار راجہ صاحب زندہ دلء خوش اغلاق اور یی کر رر قرف تھے :ال مین محر کے کا موں می بڑھ چا ھکر حصہ لیے سے او رکیمو نی

کے کاموں میں بڑھ جا ھکر حصہ ڈا لے تے_ جائع ممچر میں کو نی سکر اس ڈڈیی میں ڈاکٹر عپد ال رب ا قب نے ا نکی نماز جنازہ اداکی اور بر لے ل تبرمتان می ا نکی ابلیہ کے قریب ان کی تی ہیں یہ یماکان یں تن ف02 راجہ افراڈیء راجہ صرفراز اود راجہ تاز اور جن یڈیاں سوگواروں میں ششائل ہیں-

الات کے جو ابات

022۳

+ ساتا ےو

سعدالی: ایک خاتو نکاس ال ےکمہ میرک بجی ہی جب تال مال فیاو دی ہو چگی ہے ات نے سان ادا سے کل دہ ودضرے می بھی فحم کے دودجھ ہی گا بک ری ینس ہے دووھ سے شدید ال ری رھت ہے اب صورححال بہ ےک ہ مبرىی دوصرکی نی اب برا دودھ لی ری سے لین ىہ ان یکشثزت سے پیر اہو تا ےک ڈاکش کی رایت کے ہطالل گے زار روردھ کو بذر تہ پپ اکا لکر ضا کم دینا ای ءکیا اس سے بت ہہ یں ےک میں اس زائد دود ھک کپ ٹیس ڈا لک اق مکی ہک یکو یلا دوں نآ کے قرر ی می مکی ما حیثیت رککتاے ‏ لیکن سو ال یہ سے 3 وہل مدت رضاعت صرف دوسال سے ا ےکیامہرے لے الی اکر ناجائز ہ وگ ؟ جواب: مکی بات فو ہہ ے کہ وو سال سے زیادہ دودھ پلانانا جائز یں ے۔ اکر بیہ دوسمال کے بعد بھی دودیھ پیٹ ے کا خواہشمند ہہو فو اسے دودھ پلانے قط ‏ اکوںی رع یں ء جب مت فک وو خودنہ کُوڑرے۔_ اب م کہا اسنا ےکہ ق رآ نکی اس آیت میں لا رت ضاعت دوسمال با یگئی ے: (ولواداث یرٹ اَزلاتفی حخَزلیِ کاملین بت ٦ئ0‏ أَرَادَ ہہ یتم الرَصَاعَة ہ ”اور مائیں اپنے پچ نکو بیو رے دوسسال دودھھ پلائیں سض ے یے جو رضاح تکی ری مدت (دودھ پاداناجاتاہوں۔)( سور البقرة :233( ۔ آیت طلاقی ہے اجامات کے شعن ٹس بیان ہوئی ے٤‏ ایک عحورت ج طلاتی کے وقت حالہ تا ء ےکی ولادت ہوتے بی ا سکی عرت شخ ہو

گی ء شوہرسے ا سکار شنہ شتم مالین ےکا باپ چابتا ےکہ دداسے دودھ پا ۓے- ایک مطاققہ عورت ہو سکنا ےکلہ مہ چا ےکلہ ۴یس اس چ کو صرف ایک سال پاڈیٹھ سال دددھ پا کر فار غکر دوں فو اڈ کی رف سے عم دیاجاۓ عخو رر ردائ تک ری رے ران دودھ پلانا ایی ء دوسال سے زیادہ اسے مجبو ر یں یا اناو انی لے ای نآ یت کے فورآزت کیا کہ مس مردکا یہ سے ود اس با ت کا ابد ےکک انس دورالن عو رت کے روارخ کے ہمطا لی خر بر داشت کرے۔ الو نک وو ما سوال زاکر ووو کو اکپ کین ڈال کر بجی ہچ یکو مان سے ملق سے تو ایا کرنے می ںکوگی حرج نی ۔ مہ تو ان سکیا ابی گی ے۔ اگ و کی دوسرے کے کو یی دودھ بای فو پھر بر بناۓ رضاعحت دہ ا لک رضائی ماں کہلائی۔ ا کاو ہر اس ےکا رضا گی باپ اور ال کے اپنے پچ اس کے رضاگی ھا ٹیب نکہلاتے اور یہ گی اس صصورت میں ےک ىہ دودھ ش روغ کے دوسمال یس پلایا جات او رگم انرک پا مر تبہ پل یا جانا پھر رضاع تک وجہ سے حر مت خابت ہوٹی۔ والن الم وش

سوای: ایک غانو نکا سوال ےک آیا اگوی سے گی پر لفظا الد ٰ ام یئ یراز اکڑے؟ ان نے اپنی اگوھ یکی تحویر بھی ار سا لکی سے شس پر صرف الل انف ے۔ واب: مع کی آرام در کرنے سے شی اس موضورم پر چند احادیث اور آار أفُ لکرتے ہیں:

1- برنا اس مو ے روایت ے کہ رسول الم نے چاند یکی اگ تھی بنا رکھی بھی جس پر“ مم رسول الثر ممقوش تھا۔ آپ ضفکا نے ار شاد فربایا: نم نے پا ند یکی اگو شی بن کی سے رشن رخ رسول الد نما لفن کال 7 .23ے ج۔۔

( بج ناریو مم 2 سیدنا اس ٹا سے ددایت ےکلہ جب می کیم موم جب بت الا میں داشحل ہوۓ و 7 شی اہاروۓے۔) سن الوداوّر) اور انس پر۳ مجر سول ال ککھاہو اتھا۔ 3_ مصنف این الی شیبہ میں ىہ چند آخار درجع کے گے ہیں: عبر اور بن عرٹاٹ کی اگ و شھ یکانشش ان کا ابنا نام تھا۔ سینا عذیفہ ٹل اور سیدنا ابو عبیرو ٹف ک تن وا :امدرللد سینا علی ٹف کا تن جو اللہ الیک حضرات ان اور این ان سے منقول ےکلہ او شی پر ال رکا کر (یشنی تش) تات مکرنے میں و و ا ری یج

نی سے پر یی بے کاننش ال اور مرو لک مم الد تھا۔

اع سی رن نان کے ہی ںکہ اگ رکوگی نیس ایقی مو شی پر نی ارڈ 'کمواۓ و اس می ںکوگی جرح ان تا رکی رو شی میس علاء رہ آراء رت ہیں:

زین ازہ ش مر بین مین وور تشخ صاںغ الغوزان نمومنشم کی راۓ میں صرف ”الد یا صرف اویں م سسمونت

ا 2

گی 2021

ہوں یس ”عبد ال پا عبد ال من اکوئی دوسرانام جس کا جزو مر ( خی ہو۔

تی دمرے مان بین نا لن شال کی , العروگیء عبد الشحکور لیا بای شال ہہیں۔ جو از کے مکل ہیں مین سب کا اس بات پر انقاقی سے ٠و‏ وی تی مو سے جس ے

مھ

الاو ر8 مھ (خافظ ‏ ےے نا مو ںکی تق رہولی ہو ا لے بت الفذاء جات وشت پاٹ اگ ھت یکو اہر انار دے پا اپنے دائیں بات کی مۓٹھی می نے لے اور وہ ھی اس صصورت می ںکہ باہ رٹچھوڑے جانے پر اس کے ضائح ہو جا کا خطرہ ہو بی دوصری راۓ راغ معلوم ہو ٹیہ ےککہ الد کے رسو لکی اگو شی میں نام مر( ) شائل تھا۔ بس چز سے عک ایا تحاوہ یہ لوا ری عبارت تھی: رر سول الد اور نی حیظر کے دوموں و اسوں سیر ناشن اور سینا مین لٹ کی رائۓ بھی اس کے جن ہیں سے ین جو رضورں اگ و کی تح تی زیت میں یں ہوٹی چاہیےء اگر اس پر اللہ یا ( خی سکا یش موورے

0+0 عدال: ایک عدیث اکر یل کی عالی سے کہ مع ری امم تکا اختلاف باععث رحت سے لو ا بارے میں وضاح گر ں۔ جواب: اس بارے میں میں اۓ 2 ناصر الدین الہا یی کی تشقین کا خلاصہ یٹ لکرس ہوں۔ 'اخُتلاف مق رخ" کے الفاظ پر مل رس قو لکی بت رسول الڈہ مم کی طرف ورست یں ے۔ امام سید شی ما بھی کن پر مجبور ہو کہ شاب حفاظ عدبی ٹک یم ی سکاب میں ا قو لک یکوکی سند بیا نک یکئی ہو جو جم کک نی گی .(ا لام السر)

اخ الد گن ا بی پیا کت ہیں کک ا عدیث محد جن کے پال مروف یں ےء پاوچود کو شش کے بج ا سک یکوکی سندہ جج با ضیف با موضوع(رناونی) نہیں ہی_“

می کے اظتبار سے بھی رہ عدبیث تقائل اٹکارے۔ اام این زم جا کے ہیں:

”ہنا تو پالئل فاید معلوم ہو جا ےء ا کاو مطلب ہوا کہ اگر اختلاف رحمت سے تو انقاقی نار شک یکاباعتث ہو گا اور ےکنا پذ اسیک مسلمانع کے لیے جائز یں سے دہ اس ل کہ یا انقاقی گا اور ما اختلاف: امی طرب یارحت ہو گا یا زمت (نارا شی )۔(الاجکام فی اصول الاجکام:64/5)

ال موب حدیث کے رواع